اشاعتیں

تبصرہ لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نمرتا کماری کی خودکشی وجہ اینٹی سٹوڈنٹ نظام تعلیم یا کچھ اور

تصویر
نومبر ٢٠١٩ میں BNU کی فائن آرٹ کی ٥ سمسٹر کی طلبہ دوشان فرخ کی خودکشی تعلیمی دباو بتائی گئی۔ اسی دباو کی وجہ سے طلبہ میں خودکشی کا بڑھتا رحجان خطرے کی علامت ہے۔                    اب ١٢  ستمبر۔ ٢٠١٩ کو BDS کالج کے ہاسٹل نمبر ٣ ”Chandka medical collage” سے نمرتا کماری کی لاش ملی۔نمرتا میڈیکل کی ہی طلبہ تھی ۔ادارہ اس کوطلبہ کی خودکشی بتا رہاہے جبکہ لواحقین اسے قتل کی واردات کہتے ہیں۔ ویسے بھی خودکشی بھی ایک طرح کا قتل ہی  تو ہے جو مرنے والے پر ذہنی تشدد کر کر کے کیا جاتاہے ۔باہر حال بغیر تحقیق کے قبل اذوقت کی قیاس ارائیوں کی بجائے معمہ کے حل ہونے یا مزید شواہد ملنے کے بعد ہی رائے کوئی رائے قائم کی جا سکتی ہے آیا کہ یہ خودکشی ہے یا قتل۔ باہرحال یہ افسوس کا مقام ہے ک ہمارے تعلیمی ادارے  طلبہ کو جینا سیکھانا تو دور جینے کی اہمیت ہی سیکھانے سے قاصر ہیں۔  والدین کو بھی چاہیے کہ  بچوں کے ساتھ دوستانا ماحول بنا کررکھیں تاکہ وہ ہر طرح کی بات آپ سے کر سکیں اور کسی بھی قسم کے ذہنی دباو میں آ کر خودسوذی جی...

کچرےپر سیاست

تصویر
             کچرے پر سیاست        کراچی جو شہر قائد یا روشنیوں کے شہر سے جانا جاتا تھا۔  آج اپنی گندگی کےسبب کراچی کو کچراچی کہنا بے جا نا ہو گا ۔اور اس کچرے کو یہ شرف بھی حاصل ہےکہ ناصرف خبروں کا متن بن چکا ہے بلکہ سبھی سیاسی پارٹیوں کا منظورنظر بھی ہے۔ہر سیاسی جماعت اس کے خاتمے کا کریڈٹ تو لینا چاہتی ہے مگر ہاتھ نہیں لگانا چاہتی اورہرجماعت چاہتی کہ اس کارخیر کا معاوضہ بھی اسی کو ملے۔آج تک ہم نے سڑکوں اور ریل گاڑیوں پر سیاست دیکھی تھی آج کچرے پر سیاست دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہو گیا۔دیکھتے ہیں کراچی کی صفائی کا ہدف کس جماعت کو ملتا ھے اور بجٹ کس جماعت کو ملتا ہے۔کہیں ایسا نا ہو کہ کراچی میں امن بحال کرنے کی طرح صفائی بحال کرنے کا ہدف ایک بار پھر رینجر کو مل جائے ۔اور تمام سیاسی ۔جماعتیں ہاتھ ملتی اور "میں میں" ہی کرتی رہ جا ئیں از قلم راحیلہ کوثر