مجھے کچھ کہنا ہے


 

کسی کی خوشی کے مواقع ان  کے لیے ہمارےدلی جذبات کے اظہار کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ خود سے جڑے لوگوں کو  اپنی چاہت کا احساس دلانا بہت ضروری ہوتا ہے کہ وہ ہمارے لیے کتنے اہم ہیں۔ میری سالگرہ کے دن کو مزید خاص بنانے والے گھر والوں والدین اور بھائی بہن کا شکریہ جو ہر بار اس دن میرے لیے کچھ نہ کچھ اچھا کرنےکے لیے کوشاں رہتے ہیں۔  سی بی جو چند دن ڈائٹ فالو کرنے کا پلان کرتے ہوئے اس پہ عمل شروع کرتا ہے مگر کچھ ہی دن میں اپنی پرانی ڈگر پہ واپس چل پڑتا ہے۔ انابیہ جسے ہمیشہ خود سے زیادہ اپنے رشتوں کا خیال ہوتا ہے وہ آج بھی ہرسال کی طرح میرے لیے گھن چکر بنی رہی ہے۔سب سے زیادہ خصوصی ذکر کرنا چاہتی ہوں ہمارے آنگن کے ننھے ستارے بہت بہت پیارے بھانجے محمد ولی کا جس کا وجود  میرے لیےاس کی پیدائش سے لے کر اب تک جگنو کی مانند ہے۔ وہ میرے لیے آج  جس طرح پُرجوش اور خوش رہا ہے میرے لیے یہ سب سے زیادہ خوبصورت ہے۔دعا ہے کہ اس کی چمک سدا یونہی قائم و دائم رہے، آمین۔

بہت پیاری دوست راحیلہ کوثر جس نے میرے لیے مصروفیات سے وقت نکال کر اپنے پیارے جذبات کا تحریری شکل میں اظہار کیا۔ میں سمجھتی ہوں کہ کسی لکھاری کے لیے سب سے قیمتی اس کاقلم ہوتا ہے۔ اپنے قلم سے اپنے الفاظ کے ذریعے کسی  کے لیےاپنی دلی کیفیات کااظہار کرنا  کیا ہوتا ہے میں اس سے اس لیے بھی  واقف ہوں  کیونکہ میں خود اکثر ایسی کیفیت سے گزر رہی ہوتی ہوں۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے ساتھ برا رویہ اپنا کر اپنے ساتھ اس کی جانب سے اچھے رویے کی توقع کی جاتی ہے۔ جبکہ  گندم کے بیج سے چنے کی فصل توقع نہیں کی جاتی۔ عزت کے طلبگار عزت دینے میں پہل کیا کرتے ہیں۔ عزت محبت کا دوسرا روپ ہوتی ہے اور جو محبت  لوٹائی جائے ، جتنی تقسیم کی جائے وہی اتنی ہی پلٹ کر اپنے پاس واپس آیا کرتی ہے۔یہاں کدورتیں، کینہ پروری، کنجوسی ، مادہ پرستی اور خود پسندی کی  کوئی گنجائش نہیں ہوتی بلکہ یہ جذبے تو ان برائیوں سے خالی اور  بڑے پاکیزہ ہوتے ہیں۔سچی محبت اور عزت دینے والےدل  اپنے  چاہنے والوں کو تکلیف یاعذاب میں نہیں  ڈالتے وہ ان کی مشکلات اور مجبوریوں کو سمجھ  کر ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔  زندگی میں جب بھی کبھی خاص مواقع  آئے خواہ وہ اچھے ہوں یا برے تو لوگوں کے ایسے رویے  سامنے آئے جنھوں نے مجھے ان کے معاملے میں فیصلہ کرنے میں آسانی بخش دی جن میں کچھ فیصلے تو بہت سخت بھی تھے۔ 

بعض منفی رویےکافی عرصے سے زندگی پہ برے طریقے سے اثر انداز ہو رہے تھے۔اس کے بعد 16 جون کا ہی وہ ایک دن تھا جب کسی سے بھی اپنا ارادہ ظاہر کیے بغیر ہمیشہ کی طرح نڈر، بے خوف اور سخت ترین فیصلہ کرنے والی کے دل نے کٹھن فیصلہ کیا جہاں عموماً ہمارے ہاں لوگ دنیا کی نظروں سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔  مگرجن کے دل میں اللہ کی حفاظت کا احساس اور توکل آباد ہوتا ہے اس کے لیے تمام دنیاوی طاقتیں کمزور سے بھی زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔ ساری عمر کے لیے وبال پالنے سےبہتر یہی ہوتا ہےکہ  بروقت بہادری سے کام لیا جائے۔ زندگی کے موڑ پہ کہیں یہ احساس ہو جائے کہ  ساتھ نہیں چلنا تو خاموشی سے ایک طرف الگ  ہو جانا ہی بہتر ہے۔جب فیصلہ کرنے کے بعد اس پہ قائم رہنا ہی ٹھہرا ہو تو بعد میں گلے شکوے یا  خامیوں کا چرچا کرنا پھرجہالت تصور کیا جاتا ہے۔ 

لوگوں کے برے رویوں سے وقتی طور پہ پریشانی تو ہوتی ہے مگر میں ان کو اللہ کی طرف سے مدد کا اشارہ سمجھتی ہوں۔ مجھے ایسے لوگوں کا زندگی سے بے دخل ہو جانے کا کبھی کوئی پچھتاوا یا گلہ شکوہ نہیں ہوا بلکہ میرے لیے وہ شکر کا مقام ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ ان کو ہماری زندگی سے دور کر کےہمیں  محفوظ کر کے بہترین سے نواز دیتا ہے اورایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا۔ اگر میں انھی منفی رویوں میں گھری رہتی تو جن انعامات سے اللہ نے نوازا ہے شاید وہ سب کچھ جو اب میرے پاس  ہے کبھی نہ ہوتا۔

اس وقت سالگرہ کے بہت سے  پیغامات  وصول ہو رہے ہیں جس کے لیےآپ سب کا تہہِ دل سے شکریہ۔ قلمی حوالے سے چند دن پہلے کچن ڈائریز اور اسپورٹس ورلڈ کے نام سے بلاگ بنا کرایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میری اس  نئی قلمی کاوش میں بھی آپ  سب  میرا ساتھ دیتے ہوئے  میرے ان بلاگز کو وزٹ اور شیئر کرتے رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ سب پر اپنی رحمت کا سایہ قائم رکھے، آمین۔

از قلم، علینہ ظفر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

لمبی کہانی سننے سے زلزلہ آجاتا ہے

ایک اور لنگر خانہ

8اکتوبر2005زلزلہ تھا کہ قیامت گزری