اشاعتیں

چور کے دل میں کھٹکا

تصویر
تحریر : راحیلہ کوثر مکھن ایک سادہ لوہ دیہاتی تھا اور پیشہ کے اعتبار سے کسان تھا اس کے چند کھیت کھلیان چھوٹا سا گھر درجن بھر  مرغیاں اور دو ہل جوتنے والے بیل جن کا نام اس نے چور اور ڈنڈا رکھا تھا اس کی کل کائنات تھے۔  چور کی عادت تھے کہ وہ ڈنڈا کے چارے کو چرا تا تھا اور ڈنڈا جب کبھی اس کی اس حرکت کو پکڑ لیتا تو اسے سینگ مارتا تھا اسی خصلت کی بنا پر مکھن نے ان کے نام ڈنڈا اور چور رکھ چھوڑے تھے۔ مکھن کوئی تعلیم یافتہ انسان نہیں تھا اور نا ہی اس کی کوئی اولاد تھی مگر وہ اور اس کی بیوی ایک اچھی زندگی گزار رہے تھے۔ ہوا یوں کہ ایک روز گاوں کی مسجد میں تعلیم بالغاں کے منعقد کیئے جانے کا اعلان ہوا مکھن کی تو جیسے دل کی مراد بر آئی جھٹ سے داخلہ لیا اور فٹ سے طالب علم بن گیا ۔ ایک روز استانی صاحبہ نے اردو کی املا ء یاد کرنے کو دی تو لگا مکھن رٹا لگانے ان دنوں فصل پکنے کو  تیار کھڑی تھی اور دوسری جانب چوروں کی بھی عید کے دن تھے آئے روز  کسی نا کسی کے گھر وارداتیں ڈالتے اور رفو چکر ہو جاتے ۔آج مکھن کے گھر نقب زنی جاری تھی اور دوسری جانب مکھن کےاندر کا طالب علم مکھن کی...

پاکستان کرکٹ بورڈ کے رکن سابق ٹیسٹ کرکٹر ذاکر خان صاحب کے نام

تصویر
پاکستان کرکٹ بورڈ کے رکن سابق ٹیسٹ کرکٹر ذاکر خان صاحب کے نام کرکٹ ، خاص طور پر پاکستانی کرکٹ کے لیے میری پسندیدگی کا یہ عالم ہے کہ میں اکثر قومی ٹیم کے وہ میچز بھی دیکھ رہی ہوتی ہوں جن سے عام طور پر شائقین کو اتنی دلچسپی نہیں بھی ہوتی۔ ایک دن ہمارے  گھر بھائی کا دوست آیا اور مجھے ایک پرانے میچ کی جھلکیاں یوں محو ہو کر دیکھتے پایا تو حیران رہ گیااور کہنے لگا کہ "علینہ آپی پہلی بار کسی لڑکی کو اتنے اشتیاق سے کرکٹ میچ وہ بھی ہائی لائٹس دیکھتے ہوئے دیکھ کر میں تو حیران ہو رہا ہوں۔" میرے زمانہء طالبعلمی میں بہت بار ایسا ہوتا آیا ہے کہ پیپرز کے دنوں میں بہت اہم میچز، کوئی خاص سیریز یا ورلڈ کپ کے میچز ہو رہے ہوتےتھے  تب میں جھنجھلاجاتی  اور سوچتی کہ کرکٹ کے میچز کا شیڈول بنانے والے لوگوں یا میرے ایگزامز کی ڈیٹ شیٹ بنانے والوں کے ساتھ مجھ سے جانے انجانے میں ایسی کیا گستاخی ہو گئی ہے کہ جس کا بدلہ ہر بار مجھ سے یوں لیا جاتا ہے۔ جب میں بہت چھوٹی تھی تو اپنے ننھیال  اور ددھیال میں کرکٹ میچ کے لیے سب کو  بہت جنونی دیکھا کرتی تھی۔ اُس وقت کم عمری اور نادانی کے باعث سب...

دیدی کو سالگرہ مبارک!

آج ہماری خالہ زاد بہن فائزہ باجی کی سالگرہ ہے۔  فائزہ باجی میرے ننھیال میں ہم تمام کزنز میں سب سے بڑی ہیں۔انہیں ہم سب دیدی کہتے ہیں۔ جب میں بہت چھوٹی تھی تو میری والدہ نے ان کی سالگرہ کے موقع پر ایک نظم لکھی تھی۔ ایک بار میں نے دیدی سے ذکر کیا تو غالباً وہ اس بات سے انجان تھیں اور میری بات سن کر بہت خوش ہوئی تھیں۔ تب سے اب تک میں کسی ایسے مناسب موقع کی تلاش میں تھی کہ اسے شئیر کر سکوں۔ میری والدہ نے اتنا عرصہ قبل ہی اپنی بھانجی اور ہماری دیدی کے لیے اپنے ساتھ ساتھ میرے احساسات کی ترجمانی بھی انتہائی پیارے انداز میں کر ڈالی۔  دیدی اور ان کے میاں ہمارے عمران بھائی ہم سے ہمیشہ اپنے بچوں کی طرح ہی محبت کرتے ہیں۔ ہمارا محبت کا یہ رشتہ صرف دیدی کے ساتھ ہی روا نہیں ہے بلکہ اُن کے بچوں کے ساتھ تو اس سے بڑھ کر ہے۔ محبت کے مظاہرےمیں سامعہ، آمنہ، شہیر اور رمیشا  بالکل اپنے والدین کی طرح ہیں جن سے ہماری اس حد تک  جذباتی وابستگی ہے کہ جب بھی ان کے والدین سے فون پہ بات ہوتی ہے تو باقی باتوں سے قبل اُن پیارے بچوں کا احوال سب سے پہلےدریافت کیا جاتا ہے۔ ہم تینوں بہن بھائی دن میں ...

ڈاکٹر مہوش اعجاز کے لیے نیک خواہشات

کل شام  کی فیملی گیدرنگ اللہ کی برکت اور رحمت سے الحمداللہ بہت اچھی رہی۔ بس انابیہ (بہن)،  محمد ولی(بھانجا)  اور جنید عرف جوجی کی کمی محسوس ہوتی رہی  کہ وہ ہوتے تو محفل کا لطف ہی دوبالا ہو جاتا۔ ہمارے گھرمیں ایسی محفل  بہت دنوں  بعد جمی اور خوب جمی ۔ ہماری پیاری بہن ڈاکٹر مہوش عرف چندا میڈیکل کی ہائر اسٹڈیز کے لیے بیرونِ ملک روانہ ہو رہی ہے۔یہاں  گھر سے اسپتال اور اسپتال سے گھر  تک اس کا زیادہ تر وقت اس کی ڈیوٹی آورز کی نذر ہو رہا ہوتا ہے۔ باقی سب لوگ بھی اپنے معمولاتِ زندگی سے جڑے رہتے ہیں تو اپنی اپنی مصروفیات کے باعث بہت کم  ہی ہم سب کی یہ مشترکہ  اورپُر رونق محافل سج پاتی ہیں۔ اوراس محفل کو سجانے کا مقصد یہ تھا کہ چند دن بعد اس کی پاکستان میں غیرموجودگی کی وجہ سے اتنی جلدی مل بیٹھنے کا موقع میسر نہیں آ سکے گا۔   چندا کے والد اعجاز انکل  جو محکمہء تعلیم کے شعبے سے منسلک ہیں  انہوں نے کل مجھ سے کہا کہ آج کی محفل  اور چندا کے پاکستان سے روانگی پر لکھنے کا کیا ارادہ ہے؟آنٹی(چندا کی والدہ) شفیق علی، رمشا اور حمزہ (...

یوم یکجہتی کشمیر کا پس منظر

تصویر
تحریر : راحیلہ کوثر یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ حسب روایت اس مرتبہ بھی 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر  قومی سطح پر منایا جا رہا ہے۔ 5 فروری کے یوم یکجہتی کشمیر کا پس منظر اور بحیثیت پاکستانی منائے جانے کی اہمیت پر آج میں روشنی ڈالوں گی۔  یہ جدوجہد تقسیم برصغیر سے بھی قبل ڈوگرہ استبداد کے خلاف اہلِ کشمیر کی جدوجہدِ آزادی ہی کا تسلسل ہے۔ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بنیادی اصولوں  کو نظرانداز کرکے بھارتی قیادت اور برطانوی وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے مہاراجا کشمیر سے سازباز کرکے الحاق کی ایک نام نہاد دستاویز کے تحت کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیا تو ریاست میں بغاوت پنپ اٹھی۔ تحریک جہاد کے نتیجے میں کشمیر کا ایک تہائی حصہ آزاد کرا لیا گیا۔ مجاہدینِ کشمیر کے قدم تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے کہ بھارت کے مکرو فریب سے  جہادِ کشمیر اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے نیچے دب گیا۔ سلامتی کونسل کی ان قراردادوں میں کشمیریوں سے یہ وعدہ کیا گیا کہ انہیں رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ لیکن بھارت نے ایسی ہر کوشش کو کمزور کرنے ا...

دسمبر کی شبِ آخر، تنہائی، میں اور میرا قلم

2019کے دسمبر کی  آخری سرد  ڈھلتی ہوئی شب کو محسوس کر رہی ہوں۔تنہائی کے اس عالم میں  کاغذقلم تھامےجنوری 2019کے آغاز سے اس سال کا جائزہ لینا چاہتی ہوں تو سامنے خلا میں سب کچھ کسی فلم کی مانند چل پڑا ہے۔ میری آنکھیں کچھ کھو تے ہوئے، کچھ واپس آ تےہوئے، کچھ بدلتے ہوئے، کچھ وہی رہتے ہوئے، کچھ ظاہر ہو تے ہوئے، کچھ پوشیدہ ہی رہنے والے دھندلے سے پھیکے، پُر رونق، رنگ برنگے، کھٹے، نمکین، پھیکے، تلخ و شیریں  وہ سارے مناظر دیکھ رہی ہیں جو اس ایک سال میں وقوع پذیر ہوئے۔ میرا قلم  اِس ایک  رات میں سب کچھ ہی تحریر کر دینا چاہتا ہے مگر وہ سارے طویل سلسلے ہیں جنہیں ایک ہی پل میں کاغذ پر نہیں پُر کیاجا سکتا اور 2020 کا سورج طلوع ہونے سے پہلے مجھے یہ تحریر مکمل کرنی ہے۔ 2019 میری زندگی میں بہت اہم رہا ۔ گزشتہ سال  کو میں اس لیے بھی اہم سمجھتی ہوں کیونکہ مجھے یوں لگتا ہے کہ اس میں پیش آنے والے تمام تجربات و حوادثات آئندہ زندگی میں میرے لیے یقیناًمددگار ثابت ہونے والے ہیں۔ اس سال نے میری قوتِ ارادی ،فیصلہ لینے اور اس پر ثابت قدم رہنے والی صلاحیت کو مزید بیدار کیاہے۔ ان ...

بھانجے محمد ولی کے نام

بھانجےمحمد ولی کو جب پہلی مرتبہ اپنے ہاتھوں میں لیا تو اس ننھے وجود کے لمس نے میرے اندر جو خوبصورت جذبات پیدا کیے وہ آج اس کی زندگی کے ایک سال مکمل ہونے پر بھی یاد آتے ہیں۔ اس کا وجود اپنے سینے سے لگاتے ہی ہمیشہ پُر سکون سا احساس ہوتا ہے۔ اسے بھی اپنی خالہ کے (میرے)وجود میں کشش محسوس ہوتی ہے تب ہی وہ رینگتا ہوا دوڑکر میرے پاس قلقاریاں مارتا چلا آتا ہے۔ وہ اپنے گھٹنوں کی بجائے پنجوں اور ہاتھوں کے بل رینگتا ہے۔کرالنگ کرتا ہوا وہ بالکل بلی کے بچوں سا لگتا ہے اور میں اسے اس وقت ماؤں بلا کہتے ہوئے گود میں لیتی ہوں تو وہ مسکرا دوبارہ رینگنے کو مچلنے لگتا ہے۔ غالباً اسے اس کھیل میں لطف آتا ہے۔ جن لوگوں نے میرا بچپن یا میرے بچپن کی تصاویر دیکھ رکھی ہیں وہ کہتے ہیں کہ محمد ولی  ظاہری شکل و صورت میں اپنے بابا مما کے بعد اپنی خالہ جیسا بھی ہے۔ اور خالہ کو بھی یہ بات سو فیصد درست لگتی ہے، اس لیے وہ ایسی ہر بات کے جواب میں کہتی ہیں کہ محمد ولی تو ہے ہی میرا۔ اب بڑا ہو رہا ہے تو اسے تھوڑی سی سمجھ بھی آنے لگی ہے۔ میں اسے گُگی مُگی اور سونی یا چھونی کے ناموں سے بلاتی ہوں تو فوراً میری جانب متو...