اشاعتیں

والد صاحب کے دوست

تصویر
آج دل صبح سےبہت اداس ہے۔ہمارے والد صاحب کے بہت پرانے بے حد قریبی اور مخلص دوست ارشد مسعود خان صاحب کورونا میں مبتلا رہنے کے باعث مختصر علالت کے بعد اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ارشد انکل کے لیے ان کی غیر موجودگی میں اس تحریر کو لکھنا میرے لیے بہت تکلیف دہ احساس ہے۔ ان سے تعلق محض ہمارے والد صاحب کا ہی نہیں بلکہ ہمارے اور ان کے خاندان کے تقریباً سبھی افراد سے ہے۔  میری ان سے جتنی مرتبہ بھی ملاقات رہی ہے ہمیشہ محبت اور شفقت ہی سمیٹی ہے۔میں نےان ایسا  اتنی عزت و محبت دینے اور شفقت کرنے والا کوئی شخص بہت کم دیکھا ہے۔ارشد انکل کی اہلیہ بھی بہت محبت کرنے والی خاتون ہیں۔ارشد انکل خود بھی شعبہ تدریس سے منسلک رہے اور ان کی اہلیہ بھی اسی شعبہ سے وابستہ رہیں۔ چند سال پہلے جب پاپا کی زبانی انھیں علم ہوا کہ میں انٹرمیڈیٹ اور بہن بھائی بھی اس وقت اپنے سالانہ امتحانات سے فارغ ہو چکے ہیں تو  وہ چاہتے تھے کہ چھٹیوں میں ہمارا وقت یوں بے کار میں ضائع نہ ہو۔ اس لیے انھوں نے ہمیں اپنے پاس بلا لیا اور انگلش گرائمر میں ہماری مدد کرنے لگے۔ اسی دوران ان  کی بھتیجی مائرہ اور بھتیجے شہروز عرف شہزی...

آٹو گراف اور چند یادیں

تصویر
  آج سے چند سال پہلے کاغذ پہ آٹوگراف لینے کارواج ہوا کرتا تھالیکن اب  تو زیادہ تر سیلفیز   نے اس کی  جدید صورت اختیار کر لی ہے۔ آج جب ایک قلم اور ڈائری کی تلاش میں ڈھیروں کاغذوں کے پلندے  اور کتابوں والی اپنی الماری کھولی تو میری آٹوگراف والی ڈائری بھی ہاتھ میں آ گئی۔اس پہ کچھ نامور شخصیات کے آٹوگرافس موجود ہیں جو میں نے مختلف موقعوں پر ان سے لے رکھے ہیں۔  یہ آٹو گراف ڈائری میرے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ اس پہ درج ہر آٹوگراف سے جڑی کوئی نہ کوئی ایسی یاد یا قصہ ضرور ہے جس کے یاد آتے ہی مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ آج بھی ایسا ہی ہوا ہے کہ میں اسے کھولے دیکھ رہی تھی تو مجھے مسکراتے ہوئے دیکھ کر بہن نے پوچھا کہ کیا پڑھ کے مسکرا رہی ہو؟ میں نےآٹوگراف  ڈائری کا جو صفحہ کھولا ہوا تھا   اس پہ لیجنڈری کرکٹر اور پاکستان کے موجودہ وزیرِ اعظم جناب عمران خان کے دستخط موجود تھے۔ وہ صفحہ میں نے اس کے سامنے کر دیا تو وہ بھی مسکرا دی۔ جناب عمران خان صاحب کا یہ آٹو گراف ان کے دورِ اقتدار سے کئی سال پہلے تقریباً دس سال پرانا ہے۔وہ لاہور کے ایک علاقے میں آئے تھے تو ہ...

خواتین کا عالمی دن

آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ خواتین کے حقوق اور جو مقام اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائےہیں اس کا احترام کیجئے۔ رسول اللہ ﷺنے خواتین کی عزت کا جو پیغام ہمیں عملاً دیا ہے اس کو اپنایئے۔موقع کی مناسبت سے  میں  سب سے پہلےتمام مذہبی و معتبر  خواتین ہستیوں کو سلام پیش کرتی ہوں  جو رہتی دنیاتک ساری خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔تحریکِ پاکستان میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اور دیگر قابلِ ذکر خواتین  نے اپنی  بہترین اور نا قابلِ فراموش خدمات تاریخی طور پہ رقم کی ہیں ۔ان ایسی ہر خاتون کو ہمیشہ قوم کی محسنہ کے طور پہ یاد رکھا جائے گا۔ میری زندگی بہت سی خوبصورت دل والی ذاتی مفادولالچ کے بغیر بے لوث محبتیں بانٹنے والی خواتین سے جڑی رہی ہے۔ میں سب کا ذکر ایک ہی  تحریر میں نہیں کر پاؤں مگر کچھ کے بارے میں لکھ رہی ہوں۔ والدہ  کے علاوہ اور اسکول کے زمانے سے لے کرکالج اور  یونیورسٹی کی تعلیم تک بہت سی  پُر خلوص خواتین اساتذہ کا ہماری تعلیم و تربیت میں ہاتھ رہا ہے۔ ان سب کی عظمت کو سلام۔ ہم تینوں بہن بھائی نے قرآن شریف کی ابتدائی تعلیم بہت نیک، ...

شبِ دسمبر اور کچھ قلمی باتیں

پتا نہیں کیوں مگر مجھے ہمیشہ سےہی اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر ٹریفک کا نظارہ کرنے کی خواہش رہی ہے۔ اپنی اپنی سمت میں دوڑتی ہوئی گاڑیاں جاگتی اور رواں  زندگی کا ایک نشان۔اور کوئی تحریر لکھتے وقت چاندنی راتوں میں دروازے کی اوٹ سے کبھی چاند میرے کمرے میں جھانکتا ہے تو اس کی ٹھنڈی میٹھی روشنی میرے من کو بہت بھاتی ہے۔ اکثر تحریریں میں نے اسی پُر فسوں ماحول میں ہی لکھی  اور پڑھی بھی ہیں۔ اس وقت دھندلے دسمبرکی  یہ آخری بھیگی رات قطرہ قطرہ بیت رہی ہے۔بالکل یونہی بہت سے  لوگ  میری زندگی کے اس ایک سال میں  جاتے اوراس میں شامل ہوتےرہے۔یہ دل ہمیشہ ہی کشادہ رہا ہے جانے والوں کے لیے بھی اور آنے والوں کے لیے بھی۔ سال2020میں خوف و ہراس پربا کرنے والےکورونا کے وبائی مرض نے  پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں رکھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ کورونا کی جس صورتحال کا سامنا  پوری دنیا کے دیگر ممالک کو رہا  اللہ نے پاکستان کو اس سے محفوظ رکھا ہے ۔دعا ہے کہ اللہ پاکستان سمیت پوری دنیا سے کورونا کی خطرناک بیماری کو دور کر دے اور سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔اس موذی بیماری سے جتنے افراد ...

بھانجے محمد ولی کے نام

پیارے بھانجے محمد ولی !آج تم پورے دو سال کے ہو گئے ہو۔ زندگی کے دو سال مکمل ہونے پر تمھیں بہت بہت مبارک ہو۔جیسے تم نے اپنے وجود سے ہماری زندگی کو رنگین بنا رکھا ہے میری دعا ہے اللہ تمھاری زندگی کو بھی خوشیوں کے بھرپور رنگوں سے بھر ا رکھے اور تم ہمیشہ ہنستے بستے رہو۔ مجھے محمد ولی کی آنکھوں میں ناچتی شرارت بہت پیاری ہے۔ پتا نہیں اس کی مسکراتی آنکھوں میں اس ناچتی شرارت کی کیا کشش ہے کہ میں ہمیشہ اس کی ہنسی پہ بے ساختہ مسکرا اٹھتی ہوں۔ جب میں اسکرین کے سامنے بیٹھی لکھنے کا کام کر رہی ہوتی ہوں تو وہ میرے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے ۔پہلے میرے لیپ ٹاپ کو دیکھ کر اس کے چہرے پہ شرارتی مسکراہٹ ابھرتی ہے اور پھر میری جانب دیکھ کر۔ محمد ولی اپنی مما کے منع کرنے کے باوجود میری گود میں آ کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنےننھے اور پیارے سے ایک ہاتھ سے  کی بورڈ کے بٹن دباتا ہے جبکہ ساتھ ہی قہقہے لگاتا ہوا دوسرے ہاتھ سے میرے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے تاکہ میں اسے منع نہ کر پاؤں۔ ابھی وہ سو رہا ہے اور میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں تو اس وقت اس کی اس پیاری شرارت کو سوچ کر ایک مسکراہٹ میرے چہرے پہ ہے۔ جب وہ پیدا ہو...

بہن انابیہ کے نام

  آج 30نومبر ہے وہ دن جب اللہ نے مجھے بھائی   کے علاوہ ایک اور خوبصورت رشتے یعنی   بہن سے نوازا۔ گھر کے علاوہ بچپن میں انابیہ کی سالگرہ کا اہتمام اسکول میں بھی ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ایک مرتبہ سالگرہ سے کچھ دن پہلے وہ میرے پاس آئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ ہمارے گھر کا پراپرایڈریس کیا ہے؟میں نے کہا کہ کیا ضرورت آن پڑی ہے جو تم پوچھ رہی ہو۔ سی بی (بھائی طلحہ)پاس ہی بیٹھا تھا سُن کر کہنے لگا اتنی بڑی ہو گئی ہے اور اسے دیکھو اپنے گھر کا پورا ایڈریس تک نہیں جانتی۔ انابیہ نے اسے گھورا اور کہا تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے تمھیں خود تو پتا ہے۔ وہ کہنے لگا مجھے تو پتا ہے۔انابیہ نے کہا کہ بتاؤ پھر۔ سی بی نے جواب میں چڑانے والی مسکراہٹ چہرے پہ سجا لی۔انابیہ مجھ سے مخاطب ہوئی اور کہا اسے چھوڑو تم مجھے ایڈریس بتاؤ گھر کا۔میں نے زبانی بتایا تو اسے سمجھ نہ آیا۔ تھوڑی دیر بعد میرے پاس آئی میں ہوم ورک کر رہی تھی میرے سامنے ایک کاغذ کا چھوٹا ساٹکڑا اور پینسل رکھتے ہوئے کہا کہ جو ایڈریس تم بتا رہی تھی اس پہ لکھ دو۔ چونکتے ہوئےمیں نےاسے دیکھا پھرجان چھڑانے والے انداز میں اسے لکھ کر دے دی...

حسن بھائی کے نام

  ربیع الاول کے موقع  کی مناسبت سے کل ہمارے ہاں محفلِ میلاد منعقد ہوئی۔ مجھے کچھ سال پہلے ربیع الاول کے موقع پر اپنے خاندان میں ہونے والی محفلِ میلادشدت سے یاد آئی جسے  ہم نے مل کر  ہم سب کے پیارے حسن بھائی (تایا زاد بہن کے شوہر)کی سربراہی میں سجایا تھا۔ اُس محفل کے لئے کمپیئرنگ کے فرائض میں نے سر انجام دیے تھے اور اس کا سکرپٹ بھی میں نے ہی لکھا تھا۔جب میں سکرپٹ کو ترتیب دے رہی تھی تو میں نے تلاوت کے بعد حمد شامل کرنا تھی۔باقی سب لوگ نعت کی تیاری کر رہے تھے اس لئے میں نے ان کے نام نعت خوانی کے لئے لکھ رکھے تھے۔اس وقت حمد کے لئے مجھے سوچ بچار کرنا پڑ رہا تھا کہ تلاوتِ کلام پاک کے بعد وہ محفل کس شخص کے  حمد پڑھنے سے شروع کی جائےجس کے بعد پہلی نعت طلحہ پڑھے ۔تب میرے ذہن میں حسن بھائی کا نام آیا اور میں نےنعت خوانی کے علاوہ حمد کے لئے بھی ان کا نام لکھ لیا۔میلاد چونکہ 12 ربیع الاول کے دن تھا تو اس سے ایک روز قبل یعنی 11ربیع الاول کی شب کو ہم نے مل کر ریہرسل پلان کی۔وہ یقیناً ہم سب کے لئے ایک یاد گار ریہرسل تھی۔حسن بھائی نے طلحہ کے ساتھ مل کرایک حمد کے اشعار ڈھونڈ کر...